کم ازکم سپورٹ پرائز (ایم ایس پی) حکومت ہند کی جانب سے مارکٹ میں مداخلت ہے تاکہ زرعی پیداوار کو بہت زیادہ قیمتوں میں کمی سے محفوط رکھا جاسکے۔ کمیشن فارایگری کلچرل کاسٹس اینڈپرائزس (CAC) کی سفارشات کی بنیاد پر بوائی کے موسم کی ابتداء میں متعدد فصلوں کے لیے حکومت ہند کی جانب سے منیمم سپورٹ پرائز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ پیداواری سال کے دوران بہت زیادہ پیداوار کی صورت میں قیمتوں کو بہت زیادہ گرنے سے بچانے اور کسانوں کو محفوظ رکھنے کی غرض سے طئے شدہ قیمت ایم ایس پی ہوتی ہے ایم ایس پی حکومت کی جانب سے انکی پیداوار کیلے ایک گیارنٹی قیمت ہوتی ہے۔ ہنگامی پیداوار اور مارکٹ میں بدنظمی کے سبب ایم ایس پی سے کم مارکٹ قیمت ہونے پرحکومتی ایجنسیاں کسانوں کی مکمل فصل اعلان کردہ ایم ایس پی پرخریدلیتی ہیں۔ ایم ایس پی کا تاریخی پس منظر فصلوں کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ کے مقابلہ میں زرعی پیداوار کو انشورنس فراہم کرنے کی ہدایات حکومت کی پرائزسپورٹ پالیسی دیتی ہے۔ کم ازکم گیارنٹیڈ قیمتیں اسطرح طئے کی جاتی ہیں کہ انکے نتیجہ بازار قیمت نہ جانے پائے 1970 کی دہائی تک حکومت نے دوطرح کے انتظامی قیمتوں کا اعلان کیا تھا۔ مینیمم سپورٹ پرائز(MSP) پروکیورمینٹ پرائزس ایم ایس پی فلور قیمتوںکی حیثیت رکھتا تھا اور کاشت کاروں کیلے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر طویل مدتی گیارنٹی کی حیثیت سے حکومت طئے کرتے تھی اس یقین دہانی کے ساتھ انکی پیداواروں کی قیمت حکومت کی طئے شدہ قیمت سے نیچے گرنے نہیں دی جائیگی۔ یہاں تک کہ پھر پیداوار کی صورت میں بھی پروکیورمینٹ پرائزس خریف اور ربیع کے اناجوں کی قیمتیں تھیں جس پر اناج گھریلو سطح پر سرکاری ایجنسیاں (جیسے FCI) ' PDS کے ذریعہ فراہم ہوتا تھا۔ اسکا اعلان کٹائی کے آغاز کے فوری بعد ہوجاتا تھا۔ عموماً پروکیورمینٹ قیمت کھلے مارکٹ سے کم اور ایم ایس پی سے زیادہ ہوتی تھی ،دھان کے معاملہ میں بھی یہی دوسرکاری قیمتوں کی پالیسی کچھ تبدیلیوں کے ساتھ 1973-74 تک جاری رہی۔ گیہوں کے معاملہ میں یہ 1969 میں منقطع کردی گئی اسکے بعد 1974-75میں MSP ختم کرنے کے شدیدمطالبہ پر موجودہ نظام سامنے آیا جسمیں دھان کے لیے قیمتوں کےصرف ایک سیٹ اعلان کیا جاتا ہے اور دیگر خریف کی فصلوں اور گیہوں کو بغیر اسٹاک آپریشن کیلے پروکیور کیا جاتا ہے۔ ایم ایس پی کیلے عزم کم ازکم سپورٹ قیمتوں کی سطحوں کے تعلق سے سفارشات اور دیگر غیر قیمتی اقدامات کی تیاری کیلے کمیشن مخصوص پیداوار یا پیدوار کے گروپ کی معاشیات کے پورے اسٹرکچر کے ہمہ گیر پہلوکے علاوہ کمیشن درج ذیل پہلووں پر بھی غور کرتا ہے۔ پیداوار کی قیمت ان پٹ قیمتوںمیں تبدیلی ان پٹ آوٹ پٹ قیمت کی تعدیل بازار قیمت کے رجحانات ڈیمانڈ اور سپلائی انٹرکراپ پرائز تعدیل صنعتی کاسٹ اسٹرکچر پراثر کاسٹ آف لیونگ پر اثر عمومی پرائرلیول پراثر بین الاقوامی قیمت کی حالت کسانوں کی جانب سے ادا کی گئی اور کسانوں کی حاصل کی گئی قیمتوں میں تعدیل اثرات اور رعایت کے لیے مضمرات کمشین دونوں مائکرولیول ڈاٹا اور ضلع ریاست اور ملک کی سطح پر مجموعات کا استعمال کرتی ہے۔ کمیشن کی جانب سے استعمال کردہ ڈاٹا/انفارمیشن میں درج ذیل شامل ہیں: فی ہیکٹر فصل /کاشت کی قیمت اور ملک کے مختلف علاقوں میں قیمتوں کااسٹرکچر اور اسمیں تبدیلیاں ملک کے ملک علاقوں میں فی کونٹل پیداوار کا خرچ اور اسمیں تبدیلیاں متعدد ان پُٹس کی قیمتیں اور اسمیں تبدیلیاں پیداواروں کی مارکٹ قیمتیں اور اسمیں تبدیلیاں کسانوں کے ذریعہ فروخت کردہ اشیاء استعمال کی قیمتیں اور وہ جوانکی جانب سے خریدی گئیں اور اسمیں تبدیلیاں سپلائی سے متعلق معلومات، رقبہ، کاشت اور پیداوار، درآمدات، برآمدات اور گھریلو دستیابی اور ھکومت/پبلک ایجنسیوں یا انڈسٹری کے پاس ذخیرہ ڈیمانڈ سے متعلق معلومات ، پر کپیٹا استعمال ، پروسسنگ انڈسٹری کے رجحانات اور گنجائش بین الاقوامی مارکٹ میں قیمتیں اور اسمیں تبدیلیاں دنیا کے بازاروں میں طلب اور فراہمی کی حالت فارم پروڈکٹس کی مصنوعات جیسے شکر، گڑ، خوردنی ، غیر خوردنی تیل اور کپاس ،صوت، جوٹ کی حالیہ قیمتیں اور ان میں تبدیلیاں زرعی مصنوعات کی پروسسنگ کا خرچ اور اسمیں تبدیلیاں مارکٹنگ، اسٹوریج، حمل ونقل، پروسسنگ، مارکٹنگ سروس ٹیکس/فیس کے اخراجات اور مارکٹ میں کام کرنے والوں کے مارجن میکرو اکنامک متغیرات جیسے قیمتوں کی عمومی سطح، کنزیومر پرائز انڈائس اور وہ جو مانیٹری اور مالی عوامل کی عکاسی کرتے ہیں۔ مآخذ:۔فارمسرپورٹل (کسانوں کا پورٹل) فصلیں جنکے لیے ایم ایس پی کا اعلان کیا جاتا فی الحال 25اشیائے استعمال کیلے ایم ایس پی کا اعلان کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں۔ اناج (7) دھان، گیہوں، جو، جوار، باجرہ، مکئی اور راگی دالیں (5) چنا، تور/ارہر، منگ، اُڑت اور مسور تلھن (8) منگ پھلی، تل/سرسوں ، توریہ، سویا بین، سورج مکھی کے بیج ، تل، کسم کے بیج اور کسنجد {تل} کھوپرا خام کپاس خام جوٹ گننا ورینیا فلوکیورڈ تمباکو اشیاء قسم ایم ایس پی 2025-26روپے فی کنٹل ایم ایس2024-25روپے فی کنٹل پچھلے سال کے مقابلہ اضافہ روپے فی کنٹل خریف کی فصلیں دھان کامن 2369 2300 69 گریڈA 2320 2389 69 جوار ہائیریڈ 3371 3699 328 مالڈانڈی 3421 3749 328 باجرا 2625 2775 150 مکا 2225 2400 175 راگی 4290 4886 596 تور/ ارہر 7550 8000 450 مونگ 8682 8768 86 اڑد 7400 7800 400 کپاس (درمیانے درجے کی اسٹیپل) 7121 7710 589 (لانگ اسٹیپلر) 7521 8110 589 مونگ پھلی 6783 7263 480 سورج مکھی کے بیج 7280 7721 441 سویابین (زرد) 4892 5328 436 سیسمم 9267 9846 579 نائجر سیڈ 8717 9537 820 ربی کی فصلیں (2026-27میں مارکٹ میں آئیں گی) گندم 2425 2585 160 (Barley )جو 1980 2150 170 چنا 5650 5875 225 (مسور) مسور 6700 7000 300 ریپسیڈ اور سرسوں 5950 6200 250 زعفران 5940 6540 600 مارکیٹنگ سیزن 25-2024 کے لیے اہم ربیع فصلوں کے لیے ایم ایس پی میں اضافہ، مرکزی بجٹ 19-2018 کے اعلان کے مطابق ہے جس میں ایم ایس پی کو کل ہند اوزان کے اوسط پیداوار کی لاگت کے کم از کم 1.5 گنا کی سطح پر مقرر کیا گیا ہے۔ کل ہند اوزان کےاوسط پیداواری لاگت پر متوقع اوسط، گیہوں کے لیے 102 فیصد ہے، اس کے بعد ریپسیڈ اور سرسوں کے لیے 98 فیصد ہے۔ دال کے لیے 89 فیصد؛ چنے کے لیے 60 فیصد؛ جو کے لیے 60 فیصد؛ اور زعفران کے لیے 52 فیصد ہے۔ ربیع کی فصلوں کی یہ بڑھتی ہوئی ایم ایس پی کسانوں کو منافع بخش قیمتوں کو یقینی بنائے گی اور فصلوں کے تنوع کو ترغیب دے گی۔ دیگر فصلیں ملنگ کھوپرے 11,582 12,027 445 بال کھوپرے 12,100 125,00 400 ڈی ہکڈناریل 3013 3130 117 جوٹ 5335 5650 315 گنا 355 340 اضافی بونس 50روپے فی کنٹل ایم ایس پی پر قابل ادائیگی ہوگا۔Staple length (mm) of 24.5-25.5 and micro naire ralue of 4.3-51Staple length (mm) of 29.5-30.5 and micro naire ralue of 3.5-43اضافی ترغیب (انسٹیو) 500روپے فی کنٹل پروکیورمینٹ ایجنسیوں کو فروخت کی گئی۔ تور، اُڑت اور مونگ پر کٹائی/آمد کے دو ماہ کے وقفہ کے دوران ہی قابل ادائیگی ہوگی۔شفاف اور قابل منافع قیمتی (فیسر اینڈری میونرئیوقیمت) 2015-16 سیزن کے دوران شکر کی ملوں کی جانب سے قابل ادائیگی فیسر اینڈ ری میٹیو 230/- روپے فی کنٹل طے کی گئی ہے یہ بنیادی ایکوری ریٹ 9.5 فیصد سے جڑی ہے اس سطح سے اوپر 0.1 فیصد ہائینٹ اضافہ کے لیے فی کنٹل 2.42 پریمیم ہوگا۔ مارکیٹنگ سیزن 2024-25 کے لیے خریف فصلوں کے لیے ایم ایس پی میں اضافہ مرکزی بجٹ 2018-19 کے اعلان کے مطابق ہے جس میں ایم ایس پی کو آل انڈیا ویٹڈ اوسط پیداواری لاگت کے کم از کم 1.5 گنا کی سطح پر مقرر کیا گیا ہے۔ کسانوں کو ان کی پیداواری لاگت پر متوقع مارجن باجرا (77 فیصد) اور ارہر (59 فیصد) کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ ہونے کا تخمینہ ہے۔ مکئی (54 فیصد) اور اڑد (52 فیصد)، باقی فصلوں کے لیے، کسانوں کو ان کی پیداواری لاگت پر مارجن کا تخمینہ 50 فیصد لگایا گیا ہے۔ متعلقہ ذرائع CACP کی سفارش کردہ اور حکومت کی طئے کردہ اقل ترین تائیدی قیمتیں مآخذ : ۔ نارمسرپورٹل, مرکزی بجٹ پورٹل, ارتھ پیڈیا